فبھت الذي كفر!!
مشہور سابق برطانوی سنگر Cat Stevens (یوسف إسلام) ترکی کے دورے پہ آئے اہلیہ کے ہمراہ۔ ایک لبرل صحافی نے چبھتا ہوا سوال پوچھا کہ آپ بحیثیتِ ایک یورپی سنگر اور روشن خیال شخصیت کے کیا یہ پسند کریں گے کہ قبول اسلام کے بعد چار عورتوں سے بیک وقت نکاح کریں؟ آپ جیسی شخصیت کی عقل اسے کیسے تسلیم کرے گی؟ کیا یہ کوئی لوجیکل بات ہے؟
یوسف صاحب حسب عادت مسکرائے اور کچھ توقف کے بعد فرمایا کہ آپ کا یہ سوال میرے قبول اسلام سے پہلی والی حالت کے متعلق ہونا چاہئے نہ کہ موجودہ حالت پہ۔
کیوں؟
اس لئے کہ اسلام سے پہلے میرے جن عورتوں سے تعلقات تھے، ان کی درست تعداد بھی مجھے یاد نہیں اور ان میں سے کتنی عورتوں سے میری کتنی اولاد ہوئی، یہ بھی مجھے نہیں معلوم۔ وہ بچے کہاں اور کس حال میں ہیں، میں کچھ نہیں جانتا۔ تو یہ سوال پہلی والی حالت پہ وارد ہوتا ہے نہ کہ اب۔ اب تو میں الحمدللہ مسلمان ہوں۔ میری ایک ہی بیوی ہے۔ اس کے ساتھ میں خوش ہوں۔ اس کے ہوتے دوسری شادی کا کوئی خیال بھی نہیں۔ اسلام نے کب مجھے پابند کیا ہے کہ مجھے دوسری شادی کرنی ہے۔ تیسری اور چوتھی کا سوال ہی نہیں۔ اگر بالفرض میں شادیاں کر بھی لوں تو اسلام نے بیوی اور اولاد کی تمام تر ذمہ داریاں نبھانے کا بھی مجھے پابند کیا ہے۔ اس پہ تو میرے دوست! تجھے اعتراض اور پریشانی ہے۔ لیکن میرے ان بچوں کی کوئی فکر نہیں جنہیں میں آج جانتا بھی نہیں۔ پتہ نہیں کہاں پل رہے ہیں یا زندگی سے ہی محروم ہوچکے ہیں۔ کیا چار بیویاں رکھ کر ان کی کفالت اور اولاد کی تربیت کرنا بہتر ہے یا سینکڑوں عورتوں کو استعمال کرکے ان سے ہونے والی اولاد سے لا تعلق ہونا؟ اور انہیں اندھیری راہوں کے سپرد کرنا؟ ان دو میں سے بتایئے انسانیت دشمنی کس میں ہے اور دوستی کس میں؟
یہ سن کر نمرود کی طرح لبرل صحافی لاجواب ہوگیا۔

بشکریہ مولانا ضیاء چترالی

With Faisal Ahmadzai , AttaUrrhaman , جرار حماسی , jiya mumtaz , Muhammad_313

About

ہر ملک کی وہ مرد دوسری شادی کے لیے اور وہ مستورات جو شادی شدہ مرد سے شادی کے لیے تیار ہوں ان کے رشتے کروائے جاتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کیساتھ دنیوی و اخروی تعاون کر سکیں۔